داد[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عطا، بخشش، دین۔ "یہ عطائے رحمانی و دادِ یزدائی ہے ہر ایک کا حصہ نہیں۔"      ( ١٩٧٦ء، اردو نامہ، کراچی، جون، ٢٤ ) ٢ - تعریف و تحسین، واہ واہ۔  اچھا کہہ کر بھی بُرا کہتے ہیں داد بھی ہوتی ہے بیداد کبھی      ( ١٩٧٥ء، پردۂ سخن، ١٦ ) ٣ - بطور لاحقۂ تراکیب میں مستعمل۔ "(دادن-دینا سے) جائداد، روداد، قراداد وغیرہ۔"      ( ١٩٢١ء، وضع اصطلاحات، ١٠١ ) ٤ - عوض، معاوضہ۔  برگ بار ہے ہور جہاں باد نہیں ترت پھل لینے کا وہاں داد نہیں      ( ١٦٠٩ء، قطب مشتری، ٨٨ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'دادن' سے صیغہ ماضی مطلق واحد غائب 'داد' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عطا، بخشش، دین۔ "یہ عطائے رحمانی و دادِ یزدائی ہے ہر ایک کا حصہ نہیں۔"      ( ١٩٧٦ء، اردو نامہ، کراچی، جون، ٢٤ ) ٣ - بطور لاحقۂ تراکیب میں مستعمل۔ "(دادن-دینا سے) جائداد، روداد، قراداد وغیرہ۔"      ( ١٩٢١ء، وضع اصطلاحات، ١٠١ )

اصل لفظ: دادن
جنس: مؤنث